ترکی شام میں کس کے خلاف آپریشن کر رہا ہے۔۔۔؟؟
آج کل بہت سے لوگ
ترکی کے شام میں شروع کیے گئے آپریشن کے بارے میں یہی سوال کرتے نظرآ رہے ہیں۔ اور
بہت سے شر پسند لوگ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بہت ہی غلط خبریں بھلا رہے ہیں اور
طرح طرح کےپراپیگنڈے کر رہے ہیں جنکا حقیقت سے کوئی تعلق نہں ہے ۔
شام، ترکی،ایران اورعراق میں پھیلی ایک کرد قوم ہے جسکی کی دو
قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو اسلام پسند دوسری کمیونسٹ ہے۔ اسلام پسند نہ صرف ترکی اور
اردگان کے حامی ہیں بلکہ ان کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں، جبکہ کمیونسٹ کرد نہ صرف
یہ کہ وہ اردگان اور ترکی کے مخالف ہیں بلکہ طاغوتی طاقتوں کے آلہ کار بن کر بگاڑ
پھیلا رہے ہیں۔ کمیونسٹ کردوں کی تنظیم "پی کے کے" جسے دہشت گرد قرار
دیا گیا ہے، ترکی اور شام میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے کرد ایک
عرصے سے ترکی کیلیئے آدھے سر کا درد بنے ہوئے تھے ۔ اس لیے ان کے ممکنہ تخریب کاری
سے ترکی اور شام کو محفوظ بنانے کے لیے ان کے خلاف یہ آپریشن کیا جارہا ہے ترکی
اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلیئے ترکی اورشام کے سرحدی ایریا میں شام کے علاقے
میں ایک بفر زون بنانے کی کوشش میں ہے، جس سے ایک تو شامی مہاجرین کو اس ایریا میں
بسایا جائے گا اور پھر انہی میں سے نوجوانوں کو ٹرینڈ کرکے اس زون کی حفاظت کا ذمہ
سونپ دیا جائے گا۔ جس سے وہ اپنے اس زون کی بھی حفاظت کریں گے اور ترکی کی اپنی
سرحد بھی محفوظ رہے گی۔ اور ترک فورسز کی بھی کچھ تعداد وہاں موجود رہے گی۔ اس لیے
تمام لوگ مطمئن رہیں۔ کسی قسم کے پروپگنڈے
اور سازش کا شکار نہ ہوں۔ رب تعالیٰ سے ترک افواج کی کامیابی اور ان کی حفاظت کے
لیے دعاگو رہیں۔ ان شاءاللہ یہ آپریشن مثبت ثمرات برآمد کرے گا اورمسلمان بالخصوص
شامی مسلمان چین و سکون کا سانس لے سکیں
گے۔
مگر جو لوگ ترکی کی بات کا بہانہ بنا رہے کہ
ترکی نے شام میں اپنی افواج داخل کردی ہیں اور پاکستان کشمیر میں اپنی افواج داخل
کیوں نہیں کر رہا تو یاد رکھیں شام میں گزشتہ پانچ سال سے یہ جنگ چل رہی ہے اس دوران ترکی اپنی جنگی حکمت عملی اور
تیاریاں کرتا رہا خود کو مضبوط کرکے آج داخل ہوگیا آج ترکی اس قابل ہے کہ اسرائیل
اور امریکا دونوں کو ایک ساتھ نپٹا سکتا ہے پاکستان ترکی کے ساتھ ہے اور ترکی
پاکستان کے ساتھ ہیں انشاءاللہ عنقریب غزوہ ہندشروع ہونے والا ہے پاکستان کی جنگی حکمت عملی اور بہت بڑی تیاری اسی کی طرف اشارہ ہے جنگیں
حکمت عملی سے لڑی جاتی ہے جذبات سے نہیں تمام مسلم ممالک کو اپنی سرحدوں کا تحفظ
یقینی بنانا ہوگا۔
لیکن دوسری جانب
امریکہ فرانس سمیت پورے یورپ کو ترکی کے اس ایکشن پر مرچیں لگی ہوئی ہیں، اس کی
وجہ یہ ہے کہ ترکی کی سرحد محفوظ ہونے کا مطلب ہے کہ ترکی مکمل طور پر بیرونی خطرے
سے باہر نکل کر عالمی طاقتوں کیلیئے درد سر بن جائے گا۔ اور اس سب سے بچنے کیلیئے
ضروری ہے ترکی کی سرحد کو غیر محفوظ رکھا جائے،اور ترکی کو اس کی سرحدوں پر مصروف
رکھا جائے ترکی پر دباؤ بڑھانے کیلیئے ہرقسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں،
جس میں پورا یورپ ایک پیج پر ہے، اور اس سے ایک بات واضح ہے، کہ لڑائیوں میں حصہ
بیشک صرف امریکہ لے رہا ہے لیکن اس پالیسی جس کو "مسلم مکاؤ مہم" کا نام
دیا جاسکتا ہے اس پر پورا یورپ متحد ہے۔ جب عسکری صورتحال بنتی ہے تو یہ ظاہری طور
پر پرامن نظر آنے والے یورپی ممالک پوری قوت کیساتھ امریکی پشت پر کھڑے ہوجاتے
ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے کس مسلم ملک کیساتھ کتنے اقتصادی معاہدے ہیں۔
دوسری جانب مسلم
ممالک کی صورتحال آپ سب کے سامنے ہے، بیشک اقتصادی جنگ اس وقت خطرناک ترین جنگ بن
چکی ہے، لیکن جب تک ہم عسکریت کو اقتصادیات پر فوقیت نہیں دیتے ہم بچ نہیں سکتے،
یورپ کیوں اکٹھا
ہوجاتا ہے۔۔؟؟
اسکی وجہ یہ ہے کہ یورپین
اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر جنگی بنیادوں پر چل رہی ہے، یورپ میں حکمران کوئی بھی
آجائے وہ اپنے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی کو تبدیل نہیں کرسکتا، یہ ہی صورتحال
امریکی صدر کی ہے،کوئی بھی امریکی صدر آجائے وہ انتظامی معاملات تو دیکھ سکتا ہے
لیکن جہاں تک تعلق عسکری اور خارجی معاملات کا ہے وہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی اجازت
کے بغیر یا انکی مرضی کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔ یہ ہی بڑی وجہ ہے کہ ان
ممالک کی پالیسیز عشروں تک بلاتعطل چلتی ہیں۔
اور ہمارے ہاں سب سے
بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ جو بھی نیا حکمران آتا تھا وہ خارجی اور عسکری محاذ پر ریاست
کی پالیسی کے مطابق چلنے کی بجائے ریاست سے سینگ پھنسا لیتا تھا ، جس کی وجہ سے
ریاست کو ایک طرف بیرونی طاقتوں سے لڑنا پڑتا ہے اور دوسری جانب ان سے
الجھنا پڑتا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ ریاست پوری قوت نہ بیرونی خطروں پر لگا سکتی تھی
اور نہ اندرونی خطروں پر، یہ ہی تماشہ ایک عرصہ سے چلا آرہا تھا اور یہ ہی سیاستدان
جن کو ہم ریاست کی بہتری کیلیئے چن کر پارلمینٹ میں پہنچاتے تھے ریاست کیلیئے درد سر بن جاتے ہیں۔اور اس سے بڑی
بدقسمتی کہ ہم عوام بھی ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے انہی سیاستدانوں کیساتھ کھڑے ہوکر ریاست کیلیئے مزید مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔اور یہ عمل
ریاست کیلیئے سب
سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔
الله پاکستان اور مسلم امہ کی مشکلات کم کرے اورانہیں اتفاق سے رہنے کی توفیق دے ۔
مزید اچھی ویڈیوز کیلئے ہمارے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں ۔

0 Comments